Tuesday, July 19, 2016

ہم اداس لوگوں کا آخری ٹھکانہ کیا ؟؟

ہم اداس لوگوں کا آخری ٹھکانہ کیا ؟؟

تختِ دل سے اٹھیں تو۔۔۔

نخلِ جاں‌پہ جا اتریں

خود کو چومنے نکلیں

خود کی آنکھہ میں‌کھٹکیں

کھردری تمنا کی بے امان نیندوں‌میں

یاد کے سرہانے سے

منہ کو جوڑ کر اکثر

ایسےمسکرا بیٹھیں!

!ریشمی خزاؤں کا اک شجر اٹھا بیٹھیں

ہم اداس لوگوں کا آخری ٹھکانہ کیا ؟؟

خواب کیا ‘ بچھونا کیا۔۔۔؟

درد کیا ‘ کھلونا کیا۔۔۔؟

سائبان اوڑھیں تو

دھوپ کا کڑا قرضہ

کس طرح اتاریں گے۔۔۔

ہجر پر تعیش میں۔۔۔

اب کسے پکاریں گے؟

بارشوں‌کے ریلے کا

آنسؤں کے میلے کا

اب کوئی بہانہ کیا؟

زخم دار موسم میں

حاصل تمنا کے ہر شجر کا پیلا رنگ

کیا نیا ‘ پرانا کیا؟

ہم اداس لوگوں کا آخری ٹھکانہ کیا ؟؟

سرحد پار

صبح کے گرد آلود راستوں‌میں

شبنم سے بھیگے پروں‌کے ساتھہ

سرحد پار کرتے ہوئے

ایک پرندہ

!زندگی کی لکیر پار کر گیا

!ابھی ٹھہرو

!ابھی ٹھہرو

ابھی کچھہ دیر رک جاؤ

!ابھی اے ناخدا

مجھہ کو مہکتے منتظرتنہاجزیروں‌کے نہ ہرگزخواب دکھلاؤ

ابھی مت ساحلوں‌کی سمت لے جاؤ

ابھی روح وبدن کی تشنگی کو اور بڑھنے دو

چمکتی جھلملاتی ریت پر بکھری ہوئی ان سیپیوںسے

یوں‌نہ بہلاؤ

سنہرے پانیوں‌کی نرم اور شفاف لہریںمجھہ سے

کہتی ہیں

یہ سطح آب کیا ہے؟

اک چمکتا آئینہ ہے

اور تجھے اس آئینے کا عکس ہونا ہے

ابھی تجھہ کو

بھنور کی تال سے ہم رقص ہونا ہے۔۔۔۔

........... بس اتنا

بس اتنا رزق دل بازار کی رونق نہ بھولے

بس اتنا سکھہ کہ نیند آنکھوں‌کو چھو لے

بس اتنا وقت ہو میں‌تجھہ کو پا لوں

بس اتنا ضبط ، غم اپنا چھپا لوں

بس اتنی دید کو تو پلکوں‌تک آئے

بس اتنی خوشی تن من لبھائے

بس اتنا حسن آئینہ سجا لوں

بس اتنی آس ، روٹھے کو منا لوں

بس اتنی یاد چلمن کے کنارے

بس اتنا درد جو ہستی نکھارے

بس اتنے لمحے جو ہنس کر بتا لوں

بس اتنی عمر جینے کا مزا لوں۔

تم اب یہاں‌نہ آیا کرو

کوئی بات نہیں ہوئی



اور اتنی باتیں‌ہو گئیں


اس کو جی بھر کے دیکھا بھی نہیں



اور اتنی نگاہیں ڈسنے لگیں



نہ کوئی پھول دیا



نہ کتاب کا تحفہ لیا



!مگر یہ کیا


سارے جگ میں‌رسوائی ہونے لگی



تم جب آتی ہو


دل کا نقشہ بدل جاتا ہے



اچھا تو بہت لگتا ہے


پھر بھی



تم اب یہاں‌نہ آیا کرو