Sunday, October 10, 2010

باغی

‌کہہ دے ! اے جواں مرد کہ میں سر بلند ہوں
اتنا سر بلند ، اتنا سربلند، کہ ہمالیہ کی چوٹی بھی میرے آگے سرنگوں ہے۔
کہہ دے ! اے بہادر کہہ دے کہ اس وسیع آسمان کو چیر کر چاند سورج اور ستاروں کو توڑ کر،
جنت و دوزخ کو بلا کر اور عرش سے ٹکرا کر۔
میں اس دنیا کےلئیے مجسمہ حیرت بن گیا ہوں
‌ ‌‌! اے جواں مرد کہہ دے کہ میرا سر ہمیشہ سر بلند رہے گا، میں سرکش،سنگ دل اور آتش زبان ہوں۔
میں قیامت کا ندیم ہوں،تباہی ہوں بت شکن ہوں میں دنیا کے لئیے سراپا ہلاکت ہوں۔ ہر چیز کو چکنا چور کار دیتا ہوں، لاابالی ہوں، اصول شکن ہوں
قانون کو قاعدوں اور پابندیوں کو پاؤں کے نیچے روند ڈالتا ہوں
میں بربادی کا دیوتا ہوں ، موسم ہو یا نہ ہو موسلا دھار
پیام شباب
برکھا برسا دیتا ہوں
کہہ دے ! اے جواں مرد کہہ دے کہ میں ہمیشہ سربلند رہوں گا
میں باغی ہوں! مادر گیتی کا گرم جھونکا
میری راہ میں جو چیز حائل ہوتی ہے اسے میں چور چور کر ڈالتا ہوں۔میں وحشیوں کا رقص ہوں،
اپنی تال پر میں آپ ہی ناچنے لگا ہوں
سماج کی بندشوں سے آذاد ہو چکا ہوں
میں سپاہیوں کا گیت ہوں آتش نوا موسیقی ہوں
میں سراب ہوں ، صحرا ہوں
چلتا ہوں اور تھکتا ہوں، سنبھلتاہوں اور لڑکھڑاتا ہوں
ایک ایک قدم پر ہزاروں لغزشیں
میں ایک مضطرب برق سوزاں ہوں
جو دل میں آتا ہے کرتا ہوں
دشمن سے تکرار کرتا ہوںاور موت سے نبرد آزمائ میرا کھیل ہے
مہلک مرض ہوں، وبا ہوں ایک عالم گیر خطرہ ہوں
حکومتوں کے لیئے آفت کا کوہ آتش فشاں
غارت گر ہوں۔۔۔۔ تند خو ہمیشہ بے قرار
‌کہہ دے ! اے جواں مرد کہ میں سر بلند ہوں
میں ہوں سر مست ازلی زندہ خانہ خراب جس کا طاقت کچھ نہیں بگاڑ سکتی
میرا پیمانہ زندگی ہمیشہ چھلکتا رہتا ہے۔میں قربان گاہ کی آگ ہوں
میں خود ہی آتش ہوں اور خود ہی آتش پرست
میں ہی تخلیق ہوں اور میں ہی تخریب
میں شہر آباد ہوں اور شہر خموشاں
لیلائے شب کا قاصد ہوں
دیوتاوں کی ملکہ کا نورنظر ہوں
میری مٹھی میں چاند ہے اور پیشانی میں سورج جگمگاتا ہے
ایک ہاتھ میں سریلی بانسری اور دوسرے میں لڑائ کا بگل
میں وہ مہا دیو ہوں جس نے سمندر کو کھنگال کر زہر ہلاہل نکالا اور اسے خود ہی پی لیا
میں وہ مہا دیو ہوں جس نے گنگا کو اپنی زلفوں میں قید کر رکھا ہے
اپنی خودی کے علاوہ میں کسی کے آگےسر نہیں جھکاتا ،
میں کوندے کی لپک اور بجلی کی چمک ہوں
میں صور اسرافیل کی صدائے باز گشت ہوں
قیامت کے دیوتا کا پرچم اور جبرائیل کا عصا ہوں
میں ان پیغمبروں کا پجاری ہوں جن کی چیں بہ جبیں ایک عالم کو تہہ و بالا کر ڈالتی تھی
میں وہ قہقہہ ہوں جو روح سے نکلتا ہے
میں اس بوسیدہ سماج کا دشمن ہوں اور اس کے لیئے خطرہ عظیم ہوں
میں آفتاب کی تپش ہوں
کبھی پر امن ہوں کبھی شر انگیز
میں وہ نوجوان ہوں جس کی رگوں میں تازہ خون بہتا ہے
میں وہ ہوں جو دنیا کا غرور توڑ دیتا ہے
‌کہہ دے ! اے جواں مرد ‌کہہ دے کہ میں ہمالیہ سے بھی بلند ہوں
میں لو کی لپٹ ہوں اور دریا کی پر شور روانی
میں روشن ہوں آگ کی طرح
میں بہتے ہوئے پانی کی آواز ہوں، چنچل موجوں کی شیریں راگنی
کسی دوشیزہ کی زلف پریشان کاچور ہوں، ترچھی آنکھوں کا تیرہ ہوں
کسی حسینہ کا اول بوسہ ہوں آفرین ہے مجھ پر
کسی غم رسیدہ کا دل بے قرار ہوں، کسی بیوہ کے دل کی آہ ہوں کسی ٹوٹے ہوئے دل کی پکار ہوں
میں اس مسافر کا غم ہوں جو ہمیشہ کے لئیے مارا مارا پھررہا ہو
کسی دل جلے کی پکار ہوں،زہر کی تلخی ہوں
محبوب نے جس دل کو ٹھکرایا اس کی دھڑکن ہوں
کسی مغرور اور غضبناک دل کی بے کسی ہوں
وہ درد ہوں جو دل پر چھا گیا ہو
کسی پردہ نشین معشوق کی سہمی ہوئ نگاہوں جو شرارت سے دیکھنے کے بعد بھی یوں آنکھ چرا لیتی ہے گویا دیکھا ہی نہیں
کسی چنچل چت چور کا عشق ہوں اور اس کی چوڑی کی میٹھی جھنکار
میرا بچپن اور جوانی دائمی ہے
‌کہہ دے ! اے جواں مرد کہ میں ہمیشہ سر بلند رہوں گا
میں بادِ زہریز بھی ہوں اور بادِ سموم بھی
میں اس شاعر کا ترانہ ہوں جو راہ طے کر رہا ہے اور بانسری پر گاتا جا رہا ہے
میں ایک بے قرار اور پریشان دل ہوں
میں وہ سوچ ہوں جو آگ برساتی ہے
ریگستانی آبشار کی روانی ہوں،دیوانہ وار بھاگا جا رہا ہوں
میں وحشت ہوں اور بے ہوش قلب کا ہوش ہوں، میں ترقی اور پستی کی انتہا ہوں
اس سرائے فانی پر اپنا جھنڈا لہرا تا ہوں
کہہ دے اے جواں مرد کہہ دے کہ میں سر بلند ہوں
میں وہ جنگ کی دیوی ہوں جس کا سر تن سے جدا ہو گیا ہو
جہنم کی آگ میں نہا کر جب میں ہنستا ہوں تو میرے منہ سے پھول جھڑنے لگتے ہیں
میں فانی ہوں‌میں باقی ہوں، میں ازلی ہوں‌ میں‌ وحدت ہوں جو کثرت سے بالا تر ہے
میں انسان شیطان فرشتہ سب کیلیئے باعث خوف ہوں
دنیا میں مجھے آج تک شکست نہیں ہوئ اور نہ کبھی ہو گی میں جدا ہوں میں حقیقی معنوں میں
مکمل ترین انسان ہوں ، بہتِ زمین اور تحت الثریٰ میں رقص کرتا پھرتا ہوں، میں دیوانگی ہوں ، میں وحشت ہوں
‌کہہ دے ! اے جواں مرد کہ میں ہمیشہ سر بلند رہوں گا
میں نے خود کو پہچان لیا، میرے سب بندھن کھل گئے
میں پرسورام کی سنگ دل کلہاڑی ہوں، دنیا کو ریزہ ریزیوں سے پاک کر دوں گا، یہاں میں امن ہی امن قائم کروں گا
ایک نئ دنیا بسا کر میں اس قدیم سیاہ کدہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا ۔
میں تحت الثریٰ کا مہر نوش ہوں جہاں آگ ‘ شور و غوغا کرتی ہوئ دھاڑیں مارا کرتی ہے۔

No comments:

Post a Comment