Thursday, November 4, 2010

کب سےتم نے اپنایا، اس طرح کا ہو جانا

کب سےتم نے اپنایا، اس طرح کا ہو جانا
شب کو جاگتے رہنا، دن میں تھک کے سو جانا

شہر میں تو مجھ جیسی بے شمار آنکھیں ہیں
تم بھی خیر سے جاو، تم نہ اُن میں کھو جانا

عدل کے کٹہرے میں جرم بول پڑتا ہے
داغ داغ دامن سے کچھ لہو تو دھو جانا

تن کی شاخ شاخ اب کے چُور ہے گلابوں سے
تم بھی اپنے حصے کے پھول پرو جانا

میرے بعد کا رستہ تم سے کٹ نہ پائے گا
جو بھی اجنبی دیکھو، اب اُسی کے ہو جانا

جب کبھی پہاڑوں میں چاند ڈوبتا دیکھوں
مجھ کو آتا ہے تیرے شہر کو جانا

کچھ نہ کچھ تو ورثے میں چھوڑنا بھی ہے محسن
ریت ریت کھیتوں میں کچھ نہ کچھ بو جانا

No comments:

Post a Comment